کیا تاریخ محض اتفاقات کا ایک سلسلہ ہے جو بے ترتیبی اور بے قاعدگی سے وقوع پذیر ہوتی ہیں؟ کیا یہ ترقی اور پیش رفت کی سیدھی لکیر ہے - جس کا اختتام لبرل کیپٹلسٹ جمہوریت پر ہوتا ہے؟ یا یہ کچھ اور ہے؟
تاریخ کی سائنسی تفہیم ہر کمیونسٹ کے لیے ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ اس گفتگو میں، جوش ہولروڈ تاریخی مادیت کے بنیادی اصولوں کو بیان کریں گے، جو تاریخ کو ایک دوکمہ عمل کے طور پر دیکھتی ہے، جس کو ‘عظیم مردوں’ کے خیالات سے نہیں بلکہ پیداواری قوتوں کی ترقی اور طبقاتی جدوجہد سے چلایا جاتا ہے۔.
سیدھی لکیر یا لامتناہی دہرائے جانے والے چکر کے بجائے، تاریخ تضاد کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ ترقی کے ادوار کے بعد زوال آتا ہے، اور معاشرے کی نئی، بلند تر شکلیں بالآخر پرانی سے پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنا ترقی پسندانہ کردار ختم کر دیا ہے۔.
نئے کے پرانے کے خلاف اس جدوجہد کو سمجھنا، اور اس میں اپنا کردار ادا کرنا، آج کمیونسٹوں کے لیے ایک لازمی کام ہے۔.
